تعارف

مجلس علمی سوسائٹی اپنی نوعیت کا وہ منفرد ادارہ ہے جس نے امت مسلمہ کودرپیش چیلنجزسےنمٹنےکےلیےجدیدحالات کوسامنےرکھتےہوئےتجدیدی کارنامےسرانجام دیئے۔۔۔۔ضرورت کاتعین کیا۔۔۔۔۔اہداف وضع کیےاورعلمی ڈھانچہ فراہم کرکے دینی وعصری تعلیم کے حسین امتزاج پرمشتمل

 

تعلیمی منصوبہ جات پیش کیےجوبحمدللہ بڑی کامیابی کے ساتھ جاری وساری ہیں۔

مجلس علمی، Societies Registration Act  کےسیریل نمبر KAR.No.060/2004  کے تحت رجسٹرڈ ہے۔

 

مجلس علمی کے بنیادی مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ ہے کہ ایسے تعلیمی ادارے بنائے جائیں، جن میں ایساتعلیمی نظام ہو جس میں طلبہ کی عملی تربیت، اعلی اسلامی قدروں اور شعار کے مطابق ممکن ہو تاکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کام کرتے ہوئے معاشرے میں اہم کردار ادا کرسکیں، اس لئے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور ہر آنے والے جدید دور کے لئے اس کی تعلیمات یقینی طور پر قابل عمل ہیں۔

 مجلس علمی کا Vision

’’عصری تعلیم کے مقابلے میں اسلامی تعلیمات کی بنیاد عقل کی بجائے وحی پر ہے اور وحی کے نور کے بغیر عقل گمراہ ہے‘‘

 طریقہ کارMethodology

 

وَاَمْرُ ھُمْ شُوْریٰ بَیْنَھُمْ (سورۃ الشوریٰ)

’’اور وہ لوگ اپنے معاملات باہم مشورے سے طے کرتے ہیں‘‘

مجلس علمی اسلامی نظام شورائیت کے تحت منظم ہے اور اس کا اعلی سطحی نظم و نسق علماء کرام اور ماہرProfessional Managers کے ہاتھوں میں ہے۔

  مجلس علمی کا نظام شورائیت

  • مرکزی شوریٰ
  • انتظامی شوریٰ
  • مالیاتی شوریٰ
  • ذیلی اداروں کی نگران شوریٰ
  • تعلیمی شوریٰ

مرکزی شوریٰ میں شامل علمائے کرام اپنے علم، تجربہ، فراست اور بصیرت کے حوالے سے علمی حلقوں میں جانے پہچانے جاتے ہیں،یہ شوریٰ مجلس علمی کی اعلی اختیاراتی شوریٰ ہے جو مجلس علمی کا پالیسی ساز ادارہ ہے۔ اس کے علاوہ انتظامی شوریٰ، تعلیمی شوریٰ، مالیاتی شوریٰ اور ذیلی اداروں کی شوریٰ اپنے فرائض الگ انجام دے رہی ہیں۔مرکزی شوری کی پالیسیوں اور منصوبہ جات پر عمل درآمد کے لئے Professionals پر مشتمل ایک(Managing Committee) ہے جو شوریٰ کے فیصلوں اور منظور شدہ منصوبہ جات کے اطلاق کو متعلقہ Line Managers اور اداروں کے سربراہوں کے ذریعے یقینی بناتی ہے۔

پہلا ہدف: مجلس علمی کے تحت چلنے والے مختلف اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد 3 ہزار سے متجاوز ہے جنہیں تعلیم ،طعام، رہائش اور علاج و معالجہ کی سہولیات مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان تمام طلبہ کے جملہ مصارف مجلس کے ذمے ہیں سوائے چند طلبہ کے جو مستحق زکوۃ نہ ہونے کی وجہ سے اپنے مصارف خود برداشت کرتے ہیں۔یہ تمام طلبہ ملک بھر کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جن میں کراچی اور صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی قابل ذکر تعداد بھی شامل ہے جبکہ ان اداروں میں کوئی غیر ملکی طالب علم زیر تعلیم نہیں ہے۔مجلس علمی کے تحت چلنے والے اداروں کا مالیاتی انحصارکلیۃ عامۃ الناس پر ہے جو اپنے عطیات، زکوۃاور صدقات کی مد میں ادارے بنانے اور انہیں چلانے کے لیے تعاون کرتے ہیں۔ یہ امداد مکمل طور پرملکی بنیادوں پر ہے۔ کسی قسم کی غیر ملکی یا حکومتی امداد اس میں شامل نہیں۔ یہ ادارے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے بنائے گئے ہیں اوراس مقصد کے لیے چلائے جا رہے ہیں۔

ان اداروں میں جو طلبہ تیار ہو رہے ہیں،وہ صاف ستھرے اور معتدل اذہان و فکر کے ساتھ معاشرے میں نمایاں خدمات انجام دینے کے متمنی ہیں ۔ دین فطرت کے مطابق ان کی تربیت مجلس علمی کا مقصود اصلی ہے جو اسلاف کی روایات کے پابند رہتے ہوئے آنے والے دور کے جدید تقاضوں سے نبر د آزما ہونے کیلئے تیار ہیں ۔مجلس علمی کے تحت قائم اداروں میں تعلیم و تربیت کے جو اہداف مقر ر کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں ۔ پہلا ہدف: طلبہ میں دینی شعارو اقدار کو راسخ کرنا ۔ تاکہ وہ اپنے مقصد حیات کے حصول کیلئے اپنی صلاحیتوں اور استعداد کو صحیح رخ میں استعمال کر سکیں اور چونکہ دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور جان و مال ، آبرو، عقل اور زمین کے تمام تر معاملات پر محیط ہے ، لہٰذا ایک ملکی معاشرہ میں ذمہ دار فرد کی حیثیت سے کردار کی صراحت موجود ہے اور اس کے ساتھ ساتھ فرد اور ملت کے رشتوں کی پابندی بھی بین الاقوامی کردار متعین کرتی ہے جو صرف دین اسلام کا خاصا ہے جس میں کسی قسم کے لسانی ونسلی امتیاز کی کوئی گنجائش موجود نہیں ۔ جغرافیائی خطوں میں انسانوں کی تقسیم اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک سیکولر نظاموں یا باطل مذاہب میں تو موجود ہو سکتا ہے دین اسلام ہر قسم کے تعصبات سے پاک ہے اور انسانیت کے جوہر کا علمبردار ہے ۔

دوسرا ہدف: طلبہ کو جدید علوم، سائنس و ٹیکنالوجی ، بالحضوص کمپیوٹر اور کمیونی کیشن جیسے علوم و فنون سے آراستہ کیا جائے ۔ انہیں علو م جدیدہ سے بھی لیس کیا جائے اور ترقی کے اصل مفہوم کو ذہن نشین کر دیا جائے اور ہر علم و فن جو انسانی فلاح و بہبود کیلئے لازم ہے ضرور حاصل کیا جائے ۔

تیسرا ہدف : طلبہ کی ذہنی تربیت کھلے انداز سے ہو، تنگ نظری کی بجائے وسعت نظری پیدا کی جائے اور فرقہ واریت کے بنیادی عوامل کا سدباب کیا جائے۔ امن و سلامی اورعزت نفس کے احترام و پاس کے ساتھ ساتھ دوسروں کی رائے کے احترام کا جذبہ اور اپنے موقف پر اٹل رہنے کیلئے عقلی جواز فراہم کیا جائے ۔

چوتھا ہدف: ایسے علمائے کرام تیار کیے جائیں جو جدید نظاموں کا پورا ادراک رکھتے ہوں ۔پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے لیس ہوں اور شرعی اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے مندرجہ ذیل امور پر دسترس حاصل کر سکیں ۔ جدید تقاضوں کے مطابق دینی اداروں میں حسن انتظام اور نظم و ضبط قائم کرسکیں ۔ قلت وسائل اور قلت افراد کے باوجود دینی اداروں کو منظم کرسکیں۔ مدارس کے خلا ف سازشوں کا ادارک کرسکیں اور اس کا موثر انداز میں سدباب کرسکیں۔ مدارس کے پیغام کو صحیح انداز میں عوام تک پہنچاسکیں اور عوام اور مدارس کے درمیان حائل خلیج کو ختم کرسکیں۔ دینی مدارس کیلئے مارکیٹنگ کرسکیں۔ ایسے طریقے وضع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں جن سے مدارس کے اقتصادی بحران سے نمٹ سکیں اور اقتصادی وسائل پیدا کرسکیں۔ مالیاتی شعبے کو بہترین طریقے سے استوار کرسکیں۔ مختلف اداروں کی طرف سے درپیش مشکلات کا بروقت سدباب کر سکیں مثلاً کسی سرکاری یا پرائیوٹ ادارے کی طرف سے نوٹس اور لیٹر کا قانونی طریقے سے جائزہ لے کر بروقت اقدامات کرسکیں ۔ دینی مدارس و تحریکوں میں افرادی قوت اور بکھرے وسائل کو اس طریقے سے منظم کرسکیں تاکہ لوگوں کی امانتیں درست طور پر استعمال ہوسکیں۔ تاجر حضرات کو شرعی اصولوں کے مطابق مشاورت فراہم کرسکیں ۔ عصری تعلیمی اور تجارتی اداروں کو شرعی خطوط پر ڈال سکیں اور ان کی نگرانی کر سکیں۔ پانچواں ہدف: ملکی و قومی سا لمیت اور تخفط کو سامنے رکھتے ہوئے ایسے طلبہ تیار کیے جائیں جو وطن عزیز کے وقار اور اس کے تشخض کو ہر قیمت پر برقرار رکھنے کیلئے ذہنی طور پر چوکس اور چاک و چو بند رہیں ۔دین اسلام کے دفاع کے لئے بین الاقوامی پس منظر میں عالمی سطح پر ہونے والی سازشوں اور منفی پرو پیگنڈے کا موثر جواب دے سکیں۔